الجواب حامداً ومصلیاً
رشوت چونکہ ایک عظیم جرم ہے ، اس لیے ہر مسلمان کو رشوت دینے اور لینے سے بچنا انتہائی ضروری ہے ، لیکن اپنے جان و مال کو ضرر سے بچانے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رقم دیکر اپنا حق وصول کرنا جائز ہے ۔ اس صورت میں رقم دینے والا گنہگار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔
لما فی الھندیہ:(3/331،رشیدیہ)
وھل یحل للمعطی الاعطاء ، عامۃ المشائخ علی انہ یحل لانہ یجعل مالہ وقایۃ لنفسہ او یجعل بعض مالہ وقایۃ للباقی
وفی الشامیة:(9/699،رشیدیہ)
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/222،علوم اسلامیہ)
غیر انہ یجوز للانسان عند الجمھور ان یدفع رشوۃ للحصول علی حق او لدفع ظلم او ضرر ویکون الاثم علی المرتشی دون الراشی
وکذافی حاشیہ الطحطاوی:(4/211،رشیدیہ)
وکذافی شرح المجلة:(6/40،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:21