سوال

آج کل دفتروں میں رشوت عام ہے ، رشوت دیے بغیر اپنا کام کروانا مشکل ہے ، تو کیا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

رشوت چونکہ ایک عظیم جرم ہے ، اس لیے ہر مسلمان کو رشوت دینے اور لینے سے بچنا انتہائی ضروری ہے ، لیکن اپنے جان و مال کو ضرر سے بچانے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رقم دیکر اپنا حق وصول کرنا جائز ہے ۔ اس صورت میں رقم دینے والا گنہگار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔

لما فی الھندیہ:(3/331،رشیدیہ)
وھل یحل للمعطی الاعطاء ، عامۃ المشائخ علی انہ یحل لانہ یجعل مالہ وقایۃ لنفسہ او یجعل بعض مالہ وقایۃ للباقی
وفی الشامیة:(9/699،رشیدیہ)
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/222،علوم اسلامیہ)
غیر انہ یجوز للانسان عند الجمھور ان یدفع رشوۃ للحصول علی حق او لدفع ظلم او ضرر ویکون الاثم علی المرتشی دون الراشی
وکذافی حاشیہ الطحطاوی:(4/211،رشیدیہ)
وکذافی شرح المجلة:(6/40،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:21

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔