سوال

آج کل نکاح میں شرائط لگائی جاتی ہیں مثلا دوسری شادی کرنا،جھگڑا وغیرہ کرنا اس بارے میں کچھ قیمت بھی لگائی جاتی ہے کہ یہ کام کرے گا تو اتنی رقم دے گا وغیرہ، مزید اور شرائط ہوتی ہیں۔لڑکی والوں کی طرف سے یہ کہناہے کہ ہم تو تحفظ چاہتے ہیں ۔معلوم یہ کرنا تھاکہ ایسی شرائط کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نکاح میں ایسی شرائط سے نکاح پر کچھ اثر تو نہیں پڑتا؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

نکاح میں عام طور پر تین طرح کی شرائط ہو سکتی ہیں ۔1)اگر ایسی شرائط لگائی جائیں جو نکاح سے واجب ہونے والی ذمہ داریوں اور حقوق ہی کو پختہ کرتی ہوں جیسے شوہر کے ذمہ بیوی کا نفقہ اور اس کو بھلے طریقے سے بسانا اور اس سے اچھے طریقے سے معاملہ وغیرہ کرنے کی شرط ،تو وہ معتبر ہیں اور شوہر پر ان کو پورا کرنا واجب ہے۔2)نکاح میں ایسی شرائط عائد کرنا جو عقد نکاح کے تقاضوں کے خلاف ہیں یا شریعت نے ان سے منع کیا ہو،غیر معتبر ہیں ،جیسے شوہر کا نفقہ نہ دینے کی شرط لگانا یا جہیزوغیرہ کی شرط لگانا ۔3)اگر نکاح کے وقت ایسی شرائط لگائی جا ئیں کہ شریعت نے ان کو نہ تو لازم و واجب قرار دیا ہے اور نہ ہی ان سے منع کیا ہے۔تو ایسی شرائط کے بارے میں بھی حکم یہ ہے کہ ان کو اخلاقًا و شرعًا پورا کرنا لازم ہوگا کیونکہ وہ شرائط عورت کے ساتھ وعدہ و عہد ہے اور عہد کو پورا کرنے کی شریعت نے بہت تاکید کی ہے ۔البتہ قضاءً ا ن کا پورا کرنا لازم نہ ہوگا۔

لما فی سورۃ الاسراء:
“وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(34)”
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ:(41/305،علوم اسلامیۃ)
يرى الحنفية أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فيصح النكاح ويلغو الشرط ۔ومن أمثلة ذلك: أن يتزوج الرجل المرأة على ألف بشرط أن لا يتزوج عليها، فإن وفى بما شرط فلها المسمى ۔۔۔وإن لم يوف فلها مهر مثلها و إن قال: علي ألف إن أقام بها وألفين إن أخرجها، فإن أقام فلها الألف، وإن أخرجها فمهر مثلها لا يزاد على ألفين ولا ينقص عن ألف، وهذا عند أبي حنيفة.
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/93،الطارق)
یختلف حکم الشروط فی عقد الزواج :منھا ما یجب الوفاء بہ اتفاقا،وھو ما امر اللہ بہ من امساک بمعروف او تسریح باحسان والنفقۃ۔۔۔ ومنھا مالا یوفی بہ اتفاقا،کسؤال طلاق اختھا۔۔۔ومنھا مااختلف فیہ کاشتراط الا یتزوج علیھا۔۔۔
وکذافی صحیح البخاری:(1/479،رحمانیہ)
وفیہ ایضا:(2/774،قدیمی)
وکذافی عمد ۃ القاری:(13/299،دار احیاء التراث)
وکذافی التنویر وشرحہ مع رد المحتار:(4/146،دار المعرفۃ)
وکذافی القدوری مع اللباب:(2/153،قدیمی)
وکذافی القول الراجح:(1/276)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ:(2/85،قدیمی)
وکذافی الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ:(4/134،رشیدیۃ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1440
22/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :99

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔