سوال

آج کل ہمارے ہاں مختلف جانوروں کا ملاپ کرواتے ہیں،مثلا: ہرن اور بکری کا ملاپ کرواتے ہیں ،اس سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ بہت مہنگا فروخت ہوتا ہے۔ جانوروں کا اس طرح دوسری نسل و جنس سے ملاپ کروانا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟اور جو بچہ پیدا ہو گا وہ حلال ہو گا یا حرام؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ عمل شرعا درست ہے اور پیدا ہونے والا بچہ مادہ جانور یعنی ماں کے تابع ہو گا لہذا مادہ اگر حلال جانوروں میں سے ہو تو بچہ بھی حلال ہو گا ورنہ حرام ہو گا۔

لما فی حاشیة الشلبی:(6/7،امدایہ)
قوله: وفي المتولد منهما تعتبر الأم) . . . .ولو نزا شاة على ظبي قال الإمام الخيزاخزي إن كان يشبه الأب يجوز، ولو نزا ظبي على شاة قال عامة المشايخ يجوز، وقال الإمام الخيزاخزي العبرة للمشابهة كذا في الخلاصة. اهـ. وكتب ما نصه فإن كانت أهلية يجوز، وإلا فلا حتى لو أن بقرة أهلية نزا عليها ثور وحش فولدت، ولدا فإنه يجوز أن يضحي به
وفی بدائع الصنائع:(4/205،رشیدیہ)
فإن كان متولدا من الوحشي والإنسي فالعبرة بالأم. . . . . وقيل إذا نزا ظبي على شاة أهلية فإن ولدت شاة تجوز التضحية بها وإن ولدت ظبيا لا تجوز
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/456،قدیمی)
وکذافی التاتار خانیہ:(17/433،فاروقیہ)
وکذافی التاتار خانیہ:(18/209، فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/297، رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(1/225،سعید)
وکذافی الشامیہ:(1/226،سعید)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(149،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(4/393،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/72،امدادیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2720،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:27

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔