الجواب حامداً ومصلیاً
سفرجل“ ایک پھل ہے جو سیب یا ا مرود کی طرح ہوتا ہےاردو میں اس کو” بہی“ کہا جاتا ہے۔معتدل علاقوں میں اس کی کاشت ہوتی ہے۔
احادیث مبارکہ میں اس کے متعدد فوائد مذکور ہیں۔اس کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے ،انسان کے دل کو قوی ومضبوط کرتا ہے،نہار منہ کھانے سےمعدے کی گرمی دور ہوتی ہے،کھانے والے کےاندر قوت و نشاط پیدا کرتا ہے۔
لما فی سنن ابن ماجہ : ( 375،رحمانیہ )
عن عبد الملک الزبیری عن طلحۃ قال دخلت علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدہ سفرجلۃفقال دونکھایا طلحۃ فانھا تجم الفواد
وفی کنز العمال : (10/18،رحمانیہ)
کلوا السفرجل فانہ یجلی عن الفؤاد ویذھب بطخاء الصدر
وفیہ ایضا
“کلو السفرجل علی الریق فانہ یذھب وغر الصدر.”
وفی سبل الھدی والرشادفی سیرة خیر العباد : ( 12/193، نعمانیه)
” وروی القالی فی امالیہ عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال اکل السفرجل یذھب بطخاء القلب.”
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی : ( 1/72، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(4/84، قدیمی)
وکذا فی القاموس الوحید:(774، ادارہ اسلامیات)
وکذا فی المنجد فی اللغہ:(337،بیروت )
وکذافی فرہنک آصفیہ:(1/ 660،الفیصل)
وکذا فی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:( 5/ 42،دار الکتب العلمیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر صدیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/4/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 193