سوال

احادیث میں جمعہ نہ پڑھنے پر بہت سی وعیدیں ہیں پوچھنا یہ ہے کہ ایک بستی شہر سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس بستی کے لوگ شہر میں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں بعض دفعہ وہ نہیں جاتے تو کیا وہ جو جمعہ نہیں پڑھنے جاتے وہ وعید میں داخل ہوں گے یا نہیں جبکہ بستی میں پچیس یا تیس گھر ہیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بظاہر اس بستی میں جمعہ فرض نہیں ہے لہذا جو لوگ جمعہ پڑھنے نہیں جاتےوہ احادیث کی وعیدوں میں داخل نہیں ہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع: (1 / 583 ، قدیمی)
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها
وفی الھندیة: ( 1/ 145 ،رشیدیہ )
وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة.
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : (1 /554 ،فاروقیہ )وکذا فی الشامیة : (2 /153 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2/1286 ،رشیدیہ )وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /442 ،داراحیاء )
وکذا فی النھرالفائق : (1 / 352 ،قدیمی )وکذا فی البحر الرائق : (2 /245 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : (1 /504 ،قدیمی )وکذا فی فتح القدیر: (2 /49 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:86

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔