سوال

اس عورت کے بارے میں کہ جسے تین طہروں میں تین طلاقیں دی گئیں ہوں، اس کی عدت کب سے کب تک شمار ہوگی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی عدت پہلی طلاق کے بعد سے تین حیض گزرنے تک ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع: (3 /142، رشیدیہ)
اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضیٰ من عدتھا حیضتان،… فاذا حاضت حیضۃ اخریٰ فقد مضیٰ عدتھا
وفی الھندیہ: (1 /532 ، رشیدیہ)
رجل قال: لامراتہ. . . کلما حضت و طھرت فانت طالق، فحاضت ثلاث حیض کانت العدۃ من وقت الطلاق الاول
وکذافی البحر الرائق: (3/420، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی: (2/119، رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر و مجمع الانھر: (2/149-150، مکتبہ المنار)
و کذا فی المبسوط للسرخسی: (6/4، دار المعرفہ بیروت)
و کذا فی سنن النسائی: (2/99، رحمانیہ)
و کذا فی سنن ابن ماجہ: (145، قدیمی)
و کذا فی المعجم الکبیر للطبرانی: (4/605، دار الکتب العلمیہ بیروت)
و کذا فی المصنف لابن ابی شیبہ: (4/60، دار الکتب العلمیہ بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/ 2020/12/01
جلدنمبر:22 فتوی نمبر:48

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔