الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی عدت پہلی طلاق کے بعد سے تین حیض گزرنے تک ہوگی۔
لما فی بدائع الصنائع: (3 /142، رشیدیہ)
اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضیٰ من عدتھا حیضتان،… فاذا حاضت حیضۃ اخریٰ فقد مضیٰ عدتھا
وفی الھندیہ: (1 /532 ، رشیدیہ)
رجل قال: لامراتہ. . . کلما حضت و طھرت فانت طالق، فحاضت ثلاث حیض کانت العدۃ من وقت الطلاق الاول
وکذافی البحر الرائق: (3/420، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی: (2/119، رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر و مجمع الانھر: (2/149-150، مکتبہ المنار)
و کذا فی المبسوط للسرخسی: (6/4، دار المعرفہ بیروت)
و کذا فی سنن النسائی: (2/99، رحمانیہ)
و کذا فی سنن ابن ماجہ: (145، قدیمی)
و کذا فی المعجم الکبیر للطبرانی: (4/605، دار الکتب العلمیہ بیروت)
و کذا فی المصنف لابن ابی شیبہ: (4/60، دار الکتب العلمیہ بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/ 2020/12/01
جلدنمبر:22 فتوی نمبر:48