سوال

اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک کمپنی جو کہ مون ٹوورز اینڈ ٹریولز کے نام سے مشہور ہے۔تو پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا جس میں صرف نفع ہی ہو،نقصان نہ ہو(جیسا کہ آج کل کمپنیاں اکثر نفع ہی کماتی ہیں)تو ایسی صورت میں تجارت کرنا کمپنی کے ساتھ شرعا کیسا ہے؟اور اس کا کیا حکم ہے؟کمپنی کے ساتھ معاہدہ کی تفصیل درج ذیل ہے:مثلاً کمپنی یوں کہتی ہے کہ اگر آپ ایک لاکھ مثلاً انویسٹ کریں گے تو کمپنی آپ کو لگائے ہوئے سرمائے کا آٹھ سے تیرہ فیصد تک دے گی(باقی ،کمپنی نفع و نقصان کی بات نہیں کرتی،اس بارے میں خاموشی ہے اور کبھی نقصان ہوا بھی نہیں ہے جیسا کہ اوپر سوال میں درج ہے)

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

پہلی بات یہ ہے کہ اگر اس کاروبار میں کمپنی نے بھی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے تو یہ پارٹنرشپ  یعنی“ شرکت ”ہے،اگر اس میں خدانخواستہ نقصان ہوا ،تو اصول یہ ہے کہ ہر پارٹنر کو اپنی انویسٹمنٹ کے اعتبار سے نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ اگر کمپنی نے انویسٹمنٹ نہیں کی بلکہ وہ صرف کاروبار کرے گی تو یہ“ مضاربت ”ہے اس میں اگر نقصان ہوا تو اصول یہ ہے کہ سارا نقصان انویسٹر کا ہو گا۔لیکن دونوں صورتوں میں اگر کمپنی کسی شرط اور معاہدے کے بغیر خود نقصان برداشت کرتی ہے تو یہ کمپنی کا احسان ہے اور شرکت و مضاربت کے کسی اصول کے خلاف بھی نہیں ہے،اس لیے یہ جائز ہے۔
دوسری بات یہ کہ انویسمنٹ پر طے شدہ رقم دینا جائز نہیں،بلکہ کمپنی کو ہونے والے حقیقی اور کل نفع کا فیصدی حصہ طے کرنا ضروری ہے؛مثلاً کل نفع کا آٹھ فیصد یا کم و بیش دیا جائے گا۔
تیسری بات یہ کہ کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین ہونا بھی ضروری ہے۔پس،جواز کی یہی ایک صورت ہے کہ کمپنی انویسٹمنٹ پر مقررہ رقم دینے کی بجائے ہونے والے کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین کرے؛مثلاً،کمپنی کل حقیقی نفع کاآٹھ فیصد یا کم و بیش دے گی۔

لما فی بدائع الصنائع:(5/77،رشیدیة)
أما الشرائط العامۃ فأنواع۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومنہا أن یکون الربح معلوم القدر فإن کان مجہولاً تفسد الشرط لأن الربح ہو المعقود علیہ وجہالتہ توجب فساد العقد۔۔۔۔۔۔۔۔ومنہا أن یکون الربح جزأ شائعاً فی الجملۃ لا معیناً
وفی کتاب الفقہ علی المذاہب الأربع:(3/35،حقانیة)
ویشترط لصحۃ المضاربۃ شروط: منہا أن یبین نصیب العامل من نصف أو ثلث أو نحوہما۔۔۔۔۔۔۔۔بأن یقال خذ المال مضاربۃ ولم یذکرنصیب العامل أو بینہ علی وجہ مبہم کأن قال لہ:خذہ ولک فی ربحہ جزء أو نصیب فإن المضاربۃ تکون فاسدۃً
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(2/319،رشیدیة)
وکذا فی شرح المجلة:(4/260،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/27،الطارق)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(8/502،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(3/44،حرمین شریفین)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/05/1443/2021/12/20
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:167

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔