الجواب حامداً ومصلیاً
پرفیومز میں استعمال ہونے والا الکوحل اگرکھجور یا انگور سے کشید کیاگیا ہوتو وہ ناپاک ہے اور ایسے پرفیومزکااستعمال کرنا درست نہیں ہے،اور اگر الکوحل گندم،جُواور پیٹرول سے حاصل کیا گیاہو(آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو وہ پاک ہے اور اس کا استعمال جائز ہے۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5493، رشیدیہ)
نبیذ العسل والتین والبر والذرۃ یحل سواء طبخ او لا
وفی تکملة فتح الملھم:(1/551،دارالعلوم کراتشی)
والظاھر ان معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا ثمر فینبغی ان یجوز بیعھا لاغراض مشروعۃ فی قول علماء الحنفیۃ جمیعاً
وکذافی الھندیہ:(5/414،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الشرح:(10/40،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(10/118،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/402،رشیدیہ)
وکذافی التاتار خانیہ:(8 1/433،فاروقیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/292،294،معارف القراٰن)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراتشی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/2020/1442/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:64