سوال

امام قرأت کررہا ہوتو اس کے پیچھے مقتدی کا جان بوجھ کرقرأت کرنا یا ثناء پڑھنا کیسا ہے؟اور اس آدمی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

مقتدی کا امام کی قرأت کے دوران جان بوجھ کر قرأت کرنا یا ثناء پڑھنا جائز نہیں ہے،لیکن امام کی متابعت کی وجہ سے اس کی نماز ہو جائے گی۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/274،الطارق)
وعن ابن مسعود قال:لیت الذی یقرأ خلف الإمام ملئ فوہ تراباوھذاالقول مروی عن کثیر من أئمۃ التابعین منھم سعید بن جبیروسوید بن غفلۃ وغیر ھم اوھذہ النصوص أفادت أن القراءۃ خلف الإمام مکروھۃ تحریما
وکذافی اعلاءالسنن:(1/100،ادارة القراٰن)
عن موسی ابن سعد بن زید بن ثابت یحدثہ عن جدہ أنہ قال من قرأ خلف الإمام فلاصلوۃ لہ وعلی الصفحۃ الآتیۃ: و معنی قولہ”فلاصلوۃ لہ“أی لاصلوۃ لہ کاملۃ ودلالتہ علی کراھۃ القراءۃ خلف الإمام ظاہرۃ وھم یعم الجھریۃ والسریۃ کلیھما
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(116،البشری)
لاقراءۃ علی المدرک،لأنّ قراءۃ الامام قراءۃ لہ وإن قرأ:یکرہ تحریما
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/832،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/161،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/108،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/215،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/316،ادارة القراٰن)
وکذافی الھندیة:(1/90،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
6،7،1443/2022،2،8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:125

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔