الجواب حامداً ومصلیاً
جمعہ کی ادائیگی کےلئےفقہاءکرام نےشہریابڑی بستی ہونالازم قراردیاہےکہ جس میں اکثر ضروریات زندگی میسرہوںمثلا بازارہو،کوئی با ا ثر شخص یاادارہ ہوجولوگوں کے آپس کےمعاملات حل کرواسکے،مفتی ہو جولوگوں کومسائل بتائے،الغرض انسان کی دینی ودنیوی ضروریات کا حل موجود ہومذکورہ بستی میں چونکہ شرائط موجودنہیں ہیں لہذاجمہورکےنزدیک یہاں جمعہ اداکرناجائزنہیں،اگرفتنہ فسادکاخطرہ نہیں ہےتوجمعہ روک دیاجائے،ورنہ بعض فقہاءکرام جن میں حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب بھی ہیں ان کےنزدیک جہاں جمعہ شروع ہوچکاہو وہاں جمعہ جاری رکھنےکی بھی اجازت ہے۔
لما فی ردالمحتار : (2/137،سعید)
عن ابي حنيفةانه بلدة كبيرة فيهاسكك واسواق ولهارساتيق وفيهاوال يقدر علي انصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه اواعلم غيره يرجع الناس اليه فيمايقع من الحوادث وهذاهوالاصح
وفی بدائع الصنائع : (1 /583،584،رشیدیہ)
اما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة ادئهاعند اصحابنا حتي لاتجب الجمعة الاعلي اهل المصرومن كان ساكنافي توا بعه وكذا لايصح اداءالجمعة الافي المصروتوابعه فلاتجب علي اهل القري التي ليست من توابع المصر،ولايصح اداءالجمعةفيها
وفيه ايضا : “وعن ابی عبداللہ ا لبلخي انہ قال احسن ماقیل فیہ اذاکانوابحال لواجتمعوفی اکبرمساجدھم لم یسمعھم ذلک حتی احتاجواالی بناءمسجد الجمعة فهذامصرتقام فيه الجمعة”
وکذا فی شرح الوقاية : ( 1/240،امدادیہ)
وکذا فی الہدا ية:(1/177،رحمانیہ)
وکذا فی الہندية:(1/145،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار :(2/137،سعید)
واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1440۔2019 /4/2
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :101