الجواب حامداً ومصلیاً
اس طرح یہ معاملہ درست نہیں ہے،البتہ اس کی صحیح صورت یہ ہوسکتی ہےکہ گاڑی والاایجنٹ سےیہ کہہ دےکہ مجھے صافی تین لاکھ سترہزارروپےچاہییں، اس سے اوپرمثلاًاگرتین لاکھ نوےہزارکی بکوادوتوبیس ہزارآپ کاہوگایا پورے چارلاکھ کی بکوا دوگے توتیس ہزار آپ کاکمیشن ہوگا،اس طرح کوئی ایک رقم طےکرلیں توعقددرست ہوجائےگا۔
لما فی الدرالمختار: ( 9/77،رشیدیہ)
(تفسدالاجارۃبالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسدالبیع)ممامر(یفسدھا)کجہالۃ ماجور،اواجرۃ،اومدۃاوعمل
وفی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/24،رشیدیہ)
(تفسدالاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسدالبیع)ممامر(یفسدھا)کجہالۃ ماجوراواجرۃاومدةاوعمل
وکذافی الفقه الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 4/385،الطارق)
وکذا فی التبیین الحقائق: (5/121،امدادیہ)
وکذافی الشامية: ( 9/78، رشيديه)
وکذا فی البحرالرائق: (7/530،رشيديه)
وکذافی شرح المجلة: ( 2/538،رشيديه)
واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440۔2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :51