الجواب حامداً ومصلیاً
(1)
والدین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپٌنے بچوں اور شاگردوں کو انتہائی پیار و محبت سے سمجھائیں اور وقتا فوقتا فضائل وواقعات کے ذریعے ترغیبات کاسلسلہ بھی جاری رکھیں اگر کبھی بچوں سے غلطی ہو جائے تو زبانی سمجھانے کی کوشش کی جائےاگر یہ مفید نہ ہو تو مہذب انداز وکلمات کے ساتھ زبانی تنبیہ اور ڈانٹ ڈپٹ کریں،گالم گلوچ سے اجتناب کریں،اگر یہ بھی مفید نہ ہو تو بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت مارنے کی گنجائش ہےمگر جسمانی سزامیں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے1:اتنا مارا جائے جس سے جسم پر نشان نہ پڑیں۔2:تحمل سے زیادہ نہ مارا جائے۔3:چہرے اور نازک اعضاء پر نہ مارا جائے۔4:ہاتھ سے ماراجائے ،ڈنڈے اور چھڑی وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے۔(2)ملازمین کو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ملازمین کے ساتھ حسن سلوک،فضائل اور ترغیب کا معاملہ کرنا چاہیے اور اگر کبھی سرزنش کی ضرورت ہو تو زبانی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جا سکتی ہےاور اگر یہ بھی مفید نہ ہو تو ان کو بر طرف کر دیا جائے۔
لما فی تفسیر المحیط:(3/252،دارالکتب العلمیہ)
قال ابن عباس:بالسواک ونحوہ،والضرب غیر مبرح ھو الذی لا یھشم عظماَ،ولا یتلف عضوا،ولایعقب شیئاوالناھک البالغ،ولیجتنب الوجہ
وفی الھندیة:(5/379،رشیدیہ)
والخامس ان یضرب الصبیان ضربا مبرحا ولا یجاوز الحد فانہ یحاسب یوم القیامۃ
وفی حاشیةالطحطاوی :(1/170،رشیدیہ)
لا یضرب بالعصاَ۔۔۔۔۔۔۔والمنصوص انہ یجوز للمعلم ان یضربہ باذن ابیہ نحو ثلاث ضربات ضربا وسطا سلیماولم یقید بغیرالعصا
وکذافی الشامیة:(1/352،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی التفسیر المنیر :(5/60،امیر حمزہ )
وکذا فی نظم الدرر :(2/252،دارالباز)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن :(5/172،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الموسوعةالفقھیة:(28/176،علوم اسلامیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ :(15/86،فاروقیہ)
وکذا فی شرح الطیبی :(6/167،دار الکتب العلمیہ)
واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات عفی عنہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/5/1442/2020/1/4
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 143