الجواب حامداً ومصلیاً
بچہ پیدا ہوتے ہی عورت کی عدت ختم ہوگئی اور طلاق رجعی ،طلاق بائنہ بن گئی،لہذادوبارہ نکاح کے بغیر عورت کو اپنے ساتھ رکھنا جائز نہیں۔
لما فی الشامیہ: (3 /313 ،سعید)
و)فی حق(الحاصل)مطلقاولوأمۃ أوکتابیۃ أومن زنا بأن تزوج حبلی من زنا ودخل بھاثم مات أوطلقھا تعتد بالوضع جواھر الفتاوی(وضع)جمیع(حملھا)
وفی احکام القران للشیخ المفتی محمد شفیعؒ:(5/77،ادارةالقران)
قال تعالی:(وَأُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ)قال أبوبکر:لم یختلف السلف والخلف بعدھم أن عدۃ المطلقۃ الحامل أن تضع حملھا
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (5 /228 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /527 ،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ: (1 /550 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(2/401،رشیدیہ)
وکذافی القرآن الکریم:(الطلاق/4)
وکذا فی فتح القدیر: ( 4/ 281 ، رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر 29 فتوی نمبر:134