سوال

اگرحاملہ عورت دردِزہ میں فوت ہوجائے،تواس کےحمل کونکالاجائےگا یانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرحمل کےزندہ ہونےکایقین ہوتواسےنکالاجائےگا۔

لما فی الھندیة:(1/157،رشیدیہ)
امراۃماتت والْولَدیضطرب فی بطنھاقال محمدیشق بطنھاویخرج الولدلایسع الاذلککذافی فتاوی قاضی خان
وفی البدائع :(4/310،رشیدیہ)
حامل ماتت فاضطرب فی بطنھاولد،فان کان فی اکبرالری انہ حی یشق بطنھا،لاناابتلیناببلیتین فنختاراھونھماوشق بطن الام المیتۃ،اھون من اھلاک الولدالحی
وکذافی التنویروالدر:(2/238،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی الخانیة:(1/188،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(18/221،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/93،ادارةالقرآن)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(343،حرمین شریفین)
وکذافی الفقہ الاسلامی والتہ:(2/1557،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(332،زمزم)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(4/344،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/330،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/150،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غُفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:27

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔