الجواب حامداً ومصلیاً
عورت کو چاہیے کہ وہ نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہ رکھے ، لیکن اگر وہ نفلی روزہ رکھ لیتی ہے اور شوہر ہم بستری کے لیے بلائے تو بیوی شوہر کو بتادے کہ میرا روزہ ہے، اگر شوہر پھر بھی بلائے تو بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کی بات مانے اور بعد میں روزے کی قضاء کرلے۔
لما فی الھندیة :(1/201،رشیدیہ)
ویکرہ ان تصوم المراۃ تطوعا بغیراذن زوجھا الا ان یکون مریضا او صائما او محرما بحج او عمرۃ فان صام احد من ہؤلاء فللزوج ان یفطر المراۃ
وفی موسوعة الفقھیة:(22/99،رشیدیہ)
واذا صامت الزوجۃ تطوعا بغیر اذن زوجھا فلہ ان یفطرھا
وفی الصحیح لمسلم:(1/387،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ (رضی اللہ عنہ)عن محمد رسول اللہ ﷺ فذکر احادیث منھا وقال رسول اللہ ﷺ لا تصم المراۃ وبعلھا شاھد الا باذنہ ۔۔۔۔۔۔
وکذافی القدوری:(231،بشری)
وکذافی کنز الدقائق:(68،حقانیہ)
وکذافی الھدایة:(1/237،المیزان)
وکذافی فتح الباری:(9/369،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(2/30،ایچ ایم سعید)
وکذافی الدرالمختار:(2/430،ایچ ایم سعید)
وکذافی شر ح المسلم للنووی علی ھامش الصحیح المسلم:(1/387،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/5/13/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:196