الجواب حامداً ومصلیاً
دس دن سے کم پر حیض بند ہونے کی صورت میں دو شرطوں میں سے کسی ایک شرط کے پائے جانے کے بغیرجماع جائز نہیں، وہ دو شرطیں یہ ہیں:1)عورت غسل کر لے:2)یا ایک نماز کا وقت گزر جائے۔
لما فی الھندیہ:(1/39،رشیدیہ)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجزوطیہا حتی تغسل او یمضی علیہا اخر وقت الصلٰوۃ الذی یسع الاغتسال والتحریمۃ لان الصلوۃانما تجب علیہا اذا وجدت من آخر الوقت ہذالقدر
وفی القدوری:(1/14،الخلیل)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجزوطیہا حتی تغسل او یمضی علیہا اخر وقت صلٰوۃ کاملۃ
و فی الموسوعہ الفقہیہ :(18/325،علوم اسلامیہ)
واذاانقطع دمہا قبل اکثرمدۃ الحیض او لتمام العادۃ فی المعتاد بان لم ینقض عن العادۃ فانہ لا یجوز وطیہا حتی تغتسل او تییمم او ان تصیر الصلاۃ دینا فی ذمتہا
وکذافی الہدایہ:(1/64،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/173، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/352، رشیدیہ)
وکذا فی النہرالفائق:(1/135،قدیمی)
وکذا فی شرح الوقایہ:(1/132،امدادیہ)
وکذافی کنزالدقائق:(1/14،حقانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:38