سوال

اگرمقیم نے مسافر امام کی اقتداءظہر یا عصر یا عشاء کی نماز کے آخری قعدہ میں کی یا صرف ایک رکعت رہ گئی تو باقی نما زکیسے پڑھے گا ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مذکورہ میں آخری قعدہ میں ملنے والا کھڑےہونے کے بعد عام طریقے کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے گا ۔اگر صرف ایک رکعت رہ جائے توکھڑے ہونے کے بعدپہلی رکعت میں قرات کرے گا پھر قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پڑھے گا بقیہ دو میں خاموش رہے گا ،قرات نہیں کرے گا ۔اگر مغرب کی صرف ایک رکعت پالی تو کھڑے ہونے کے بعد دونوں رکعتوں میں قرات کرے گا اور دونوں رکعتوں کے درمیان قعدہ کرے گا اورتشہد پڑھے گا ۔

لما فی المحیط البرھانی:(2 /407،داراحیاءتراث )
ثم اذا اقتدی المقیم بالمسافر وسلم المسافر،یقیم المقیم ویتم الصلاۃ ،کما فعل اھل مکۃ،وھل یقراالمقیم فی ھاتین الرکعتین ؟ فیہ اختلاف المشایخ رحمھم اللہ تعالی،والاصح انہ لا یقرا ،والیہ مال الشیخ الامام ابوالحسن الکرخی رحمہ اللہ تعالی،لانہ لا حق ادرک اول الصلاۃ وقد ادرک فرض القراءۃ
وفی بدائع الصنائع: (2/277 ،رشیدیہ )
ثم اذا سلم الامام علی راس الرکعتین لایسلم المقیم لانہ قد بقی علیہ شطر الصلاۃ فلو سلم لفسدت صلاتہ ولکنہ یقوم ویتمھا اربعا لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم اتموا یا اھل مکۃفانا قوم سفر
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/136،الحرمین شریفین) وکذا فی الخانیہ:(1/169،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/664الی666،رشیدیہ) وکذا فی سنن ابی داؤد:(1/181،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/198و516،فاروقیہ) وکذا فی ردالمحتار:(2/417،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/735،رشیدیہ) وکذافی الھندیہ:(1/142 ،رشیدیہ )
وکذا فی ھامش کتاب الفقہ:(1/406،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-4-2019،1440-7-26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:142

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔