الجواب باسم ملہم الصواب
(1)
غسل فرض نہیں ہوا۔
(2)
افضل اور بہترتو یہی ہے کہ غسل کرنے میں تاخیر نہ کی جائےکیونکہ جنبی کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے،لیکن اگر کسی وجہ تاخیر ہوجائےتو حالت جنابت میں سفرکرنااورگفتگوکرناجائز ہےالبتہ وضو کرلینا بہترہے،اور کلی کرکےاورہاتھ دھوکر کھاناکھانابھی جائز ہے،لیکن حالت جنابت میں بال کٹوانا مکروہ ہے۔
لما فی الھندیہ:(1/15،رشیدیہ)
ولوتذکرالاحتلام ولذۃ الانزال ولم یربللا لایجب علیہ الغسل، والمراۃ کذالک فی ظاہرالروایۃ لان خروج منیھا الی فرجھاالخارج شرط لوجوب الغسل علیھا، وعلیہ الفتوی، ھکذا فی معراج الدرایۃ
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/292،فاروقیہ)
الیتیمۃ:ولاباس اذا اجنب نھارا ان یخرج فی حوائجہ من غیر ان یغتسل اویتوضا ،…واذا اراد الجنب الاکل فینبغی ان یغسل یدیہ ثم یتمضمض ثم یاکل
کذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(1/333،رشیدیہ)
کذافی ردالمحتار:(1/333،رشیدیہ)
کذافی جامع الترمذی:(1/124،رحمانیہ)
کذافی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
کذافی التاوی التاتارخانیہ:(1/291،فاروقیہ)
کذافیہ:(18/136،فاروقیہ)
کذافی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(1/356،رشیدیہ)
کذافی المحیط البرھانی:(1/236،داراحیاءتراث)
کذافی المعجم الکبیر للطبرانی:(5/416،دارالکتب العلمیہ)
کذافی کنزالعمال:(9/167،رحمانیہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
8/6/1440،2019/2/14
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:148