سوال

اگر آدمی چاررکعت نماز سنت کی نیت کرے اور دورکعت پڑھ کر عمداسلام پھیردے تو ان کا کیا حکم ہے ؟اور اگر یہ خطرہ ہو کہ اگر چار رکعت پوری کروں گا تو اتنی دیر میں نکسیر پھوٹ جائے گی اور نماز پوری نہیں کر سکوں گا ،اس لیے وہ دو رکعت پر نمازتوڑ دے تو کیا حکم ہے ؟

جواب

الجواب حامداو مصلیا

اگرسنت مؤکدہ تھیں تو چاروں رکعت کی قضاء کرے گا اور اگر غیر موکدہ تھیں تو دو رکعت مکمل ہو گئیں بقیہ دو کی قضاء اس پر لازم نہ ہو گی ۔

لما فی الشامیة:(2/578،رشیدیہ)
علی اختیار الحلبی وغیرہ )حیث قال فی شرح المنیۃ اما اذا شرع فی الاربع التی قبل الظہروقبل الجمعۃ او بعد ھا ثم قطع فی الشفع الاول او الثانی یلزمہ قضاءالاربع باتفاق
وفی المحیط البر ھانی :(2/221،ادارة القرآن )
قال وکل رکعتین افسدھما فعلیہ قضاء ھما دون ماقبلھما لما مر ان کل شفع صلاۃ علی حدۃ فلایفسد الشفع الاول لفساد الشفع الثانی
وکذا فی الفقة الاسلامی وادلتہ :(2/1068،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/174،امدادیة)
وکذافی بدائع الصنا ئع :(2/5،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(1/114،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة:(2/277،فاروقیة)
وکذا فی الحلبی الکبیر :(393،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2022/19/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔