سوال

اگر امام اور مقتدی دونوں مسافر ہوں اور مقتدی کی ایک رکعت رہ جائے تو کیا وہ اپنی رہی ہوئی رکعت میں قراءت کرے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! صورت مسئولہ میں مقتدی قراءت کرے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/112،بیروت)
ومن حكم المسبوق أنه يصلي أولاً ما أدرك مع الإمام، فإذا فرغ الإمام من صلاته يقضي ما سبق به….، والمسبوق في الحكم كأنه منفرد، ولهذا كان عليه القراءة فيما يقضي
وفی التاتارخانیہ:(3/97،فاروقیہ)
و المسبوق فی الحکم کأنہ منفرد و لھذا کانت علیہ القراءۃ فیما یقضی
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/60،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(37/164،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/664،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/596،سعید)
وکذافی الشامیہ:(1/596،سعید)
وکذافی النھر الفائق:(1/198،قدیمی)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/165،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 113

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔