سوال

اگر ایک ہی شخص لڑکی اور لڑکے دونوں کی طرف سے ایجاب و قبول کرے، تو کیا نکاح ہو جائے گا؟ جبکہ وہ شخص ولی بھی ہو۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! ہو جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/299،رشیدیہ)
اجمع اصحابنا ان الواحد یصلح وکیلا فی النکاح من الجانبین وولیا من الجانبین وولیا من جانب اصیلا من جانب ووکیلا من جانب اصیلا من جانب وولیا من جانب وکیلا من جانب۔
وفی التنویر مع الدر:(4/213،رشیدیہ)
ویتولی طرفی النکاح واحد)بایجاب یقوم مقام القبول فی خمس صور کأن کان ولیا،أو وکیلا من الجانبین أو اصیلا من جانب ووکیلا او ولیا من آخر او ولیا من جانب وکیلا من آخر۔
وکذافی الھدایة:(2/35،بشری)
وکذافی المبسوط:(5/17،دارالمعرفہ)
وکذافی فتح القدیر:(3/295،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/128،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6732،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-3-2022،1443-8-11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:4

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔