سوال

اگر با جماعت نماز میں غلطی ہوئی ،اب دوبارہ نماز پڑھ رہے ہیں تو اس کے لیے دوبارہ اقامت کہنی ہو گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(6/14،علوم اسلامیہ)
تعاد الصلاة الفاسدة في الوقت بغير أذان ولا إقامة، وأما إن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة
وفی الشامیة:(1/390،391،سعید)
قوم ذكروا فساد صلاة صلوها في المسجد في الوقت قضوها بجماعة فيه ولا يعيدون الأذان والإقامة، وإن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة. اهـ. لكن سيأتي أن الإقامة تعاد لو طال الفصل
وکذافی البنایة فی شرح الھدایة:(2/121،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/456، رشیدیة)
وکذافی الھندیة(1/55، رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/390،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/187، رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/101،بیروت)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/151،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/390،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔