سوال

اگر جانور ذبح کرتے وقت جانور کی ساری گردن کٹ گئی تو وہ جانور حلال ہوگا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا کرنا سخت ناپسندیدہ ہے،لیکن گوشت حلال ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2767،رشیدیہ)
اؤقطع کل الرقبۃ(ابانۃ الراس)،کرہ الذ بح عند جمہور الفقہاءغیر الحنابلۃ،لما روی عن ابن عمر انہ نھی عن النخع(بلوغ السکین النخاع)ولان فیہ زیادۃ التعذیب،فان فعل ذلک لم یحرم،لان قطاع النخاع یوجد بعد حصول الذکاۃ
وفی المحیط البرھانی:(8/449،دار احیاء تراث)
” واذا ضربت شاۃ بالسیف،وابان راسھاحلت،وذلک الفعل مکروہ. “
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(17/395،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/311،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع الدرایة:(4/437،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/189،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالکیریہ:(5/287،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(12/3،دارالمعرفة)
وکذافی الدر المختار:(9/495،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(380،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:44

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔