الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں پٹرول وغیرہ سے ایلفی اتارنے کی بھر پور کوشش کی جائے،لیکن اگر جسم پر زخم آئے بغیر ایلفی اتارنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری میں اس کی موجودگی میں بھی وضو اور نماز ہو جائے گی ۔
لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/ 13، رشیدیہ )
والصرام والصباغ ما فی ظفرھما یمنع تمام الاغتسال و قیل کل ذالک یجزیھم للحرج والضرورۃ و مواضع الضرورۃ مستثناۃ عن قواعد الشرع کذا فی الظھیریۃ
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/275 ، فاروقیہ)
سئل الشیخ نجم الدین النسفی عن امراۃ تغتسل من الجنابۃ ھل تتکلف بایصال الماء الی ثقب القرط ؟ قال : ۔۔۔۔۔ان لم یکن القرط فیہ ان کان لا یصل الماء الیہ الا بتکلف لا تتکلف
وکذافی التنویر مع شرحہ الدر المختار:(1/ 316، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/142 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ :(1/34 ، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(63 ، قدیمی)
وکذا فی التاتارخانیہ :(1/206 ،فاروقیہ )
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/13/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 192