الجواب ومنہ الصدق والصواب
جی ہاں !یہ نکاح درست ہو جائےگا ۔اور طریقہ یہ ہوگا کہ دلہن کا وکیل، دلہے کے وکیل کو یوں کہے گا کہ میں نے فلاں مثلا اپنی بیٹی کا نکاح فلاں آدمی سے کر دیا پھر دلہے کا وکیل کہے گا میں نے فلاں (دلہے ) کی طرف سے قبول کر لیا تو یہ نکاح درست ہو جائے گا ۔
لما فی البحر الرائق:(7/257،رشیدیہ)
“ففی النکاح یقول وکیل الزوج زوج بنتک لفلان فیضیفہ الی المو کل— واما وکیل الزوجۃ فیقول زوجت فیصح “
وفی المحیط البرھانی:(15/199،دار احیاء)
“الواحد یصلح وکیلا بالنکاح من الجانبین ،وان لم یکن البدل مسمی:لانہ لا یودی الی التضاد،لا باعتبار الحقوق،ولا باعتبار التسمیۃ اما باعتبار الحقوق لان حقوق النکاح لا ترجع الی العاقد واما باعتبار التسمیۃ لان للوکیل بدا من التسمیۃ فی باب النکاح، لان النکاح ینعقد معاوضۃ بدون التسمیۃ”
وکذا فی البحر الرائق:(7/256،رشیدیہ)
وکذا فی الولواجیۃ:(4/344،حرمین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/40175،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/20،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیۃ:(12/459،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط :(19/119،دار المعرفہ)
وکذافی الشامیۃ:(4/158،رشیدیہ)
وکذا فی الخلاصۃ الفتاوی:(2/30،رشیدیہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2019/02/02، 26/5/1440
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :136