سوال

اگر سسر نے ساری زندگی پوری دیانت سے جاب کی اور رزق حلال کمایا، لیکن زندگی میں اپنی انشورنس کروا رکھی تھی۔ رٹائر ہونے کے بعد اب انشورنس کی رقم ملی ہے۔اگر وہ بہو کو اس میں سے کچھ خرچ کرنے کو دیں تو کیا وہ رقم جائز ہوگی؟جبکہ وہ خود انشورنس کو بالکل جائز سمجھتے ہیں،اگر سمجھائیں تو ناراضگی کا اندیشہ ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

انشورنس کمپنی کو قسطوں کی صورت میں ادا کی گئی اصل رقم تو حلال ہے ، البتہ اس پر ملنے والی اضافی رقم سود اور حرام ہے۔اب اس مخلوط رقم میں سے بقدر حلال رقم استعمال کرنا سسر، بہو، سب کے لئے جائز ہےاور اس سے زائد رقم کا استعمال سب کےلئے ناجائز ہےاور ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3423،رشیدیہ)
اما التامین التجاری او التامین ذوالقسط الثابت فھو غیر جائز شرعا ـ ـ ـ ـ و سبب عدم الجواز یکاد ینحصر فی امرین: ھما الغرر و الرباء
وفی فقہ البیوع:(2/1066،معارف القرآن)
اما شرکات التامین التقلیدیۃ التی تعمل علی اساس الربوا و الغرر فھی علی قسمین :الاول الشرکات التی تمارس التامین علی الحیاۃ ـ ـ ـ ـ اما عملیۃ التامین فعملیۃ تشتمل علی الربوا او علی الغرر او علیھما
وفیہ ایضاً:(2/1032،معارف القرآن)
اذا کان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمییز احدھما بالآخر فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال سواء اکان الحلال قلیلاً ام کثیرا
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/187،معارف القرآن)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1036،1038،معارف القرآن)
وکذافی التاتارخانیة:(16/509،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(36/39،علوم اسلامیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/64،دار احیاء تراث عربی)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1442/2020/12/29
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:97

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔