الجواب حامداً ومصلیاً
نوٹ کو پانی کے ساتھ دھونے سے چونکہ نوٹ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے،اس لیے کسی اور ایسی پاک مائع چیز سے دھو لیں جو نجاست کو دور کر دے اور اس سے نوٹ بھی ضائع نہ ہو،جیسے پٹرول اور سپرٹ وغیرہ تو اس سے وہ نوٹ پاک ہو جائے گا۔
لما فی تنویرالابصار وشرحہ: (1 /560 ،رشیدیہ )
یجوز رفع نجاسۃ حقیقۃ عن محلھا)۔۔۔۔۔۔۔(بماءولو مستعملا)بہ یفتی(وبکل مائع طاھر قالع)للنجاسۃ ینعصر بالعصر(کخل وماءورد)
وفی الھندیہ: (1 /41 ،رشیدیہ )
یجوز تطھیرالنجاسۃ بالماءوبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل وماءالورد ونحوہ ممااذا عصر انعصر
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /240 ،رشیدیہ ) وکذافی البحرالرائق: (1 /384 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /69 ،امدادیہ ) وکذافی فتح القدیر: (1 /194 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایہ: (1 /124 ،بشریٰ ) وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /58 ،الطارق )
وکذافی التجرید: (1 /60 ،محمودیہ )
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:71