سوال

اگر کاروبار کی نیت سے ڈالر خریدے کہ قیمت بڑھنے پر نفع حاصل کریں گے تو کیا یہ جائز ہےاور ذخیرہ اندوزی میں تو شمار نہیں ہوتا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

مختلف ممالک کی کرنسیاں چونکہ الگ الگ جنس شمار کی جاتی ہیں،لہذا (اگر قانونی طور پر منع نہ ہو تو)ان کی کمی زیادتی کے ساتھ خریدو فروخت اور نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ذخیرہ اندوزی اس وقت منع ہےجب عام شہریوں کو تنگی کا سامنا ہو،ورنہ حرج نہیں۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(1/590،دارالعلوم کراچی)
“واما العملۃ الاجنبیۃ من الاوراق فھی جنس آخرفیجوز مبادلتھا بالتفاضل فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودی .ثم ان العملات المختلفۃ لھا قیمۃ معھودۃ فی البنوک والدوائر الحکومیۃ،فھل تجوز المبادلۃباکثر او اقل من ھذہ القیمۃالمعھودۃ،کما یفعل ذلک فی السوق السوداء؟ والجواب :اننا لما اعتبرنا العملۃ الاجنبیۃ جنسا آخر فالاصل ان التفاضل فی مثلہ جائز شرعا بالغا ما بلغ ،فلا تکون المبادلۃ علی خلاف سعرھا الحکومی ربا،ولکن یمنع من ذلک لکونہ مخالفا لاولی الامر ،اذا کانت الحکومۃ الاسلامیۃ ،ولکونہ عرضا للنفس لعقوبات قانونیۃ ،اذا کانت الحکومۃ غیر اسلامیۃ.”
وفی الھندیہ:(3/213،رشیدیہ)
الاحتكار مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به كذا في التتارخانية… والاحتكار في كل ما يضر بالعامة في قول أبي يوسف – رحمه الله تعالى – وقال محمد – رحمه الله تعالى – الاحتكار بما يتقوت به الناس والبهائم كذا في الحاوي
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/363،علوم اسلامیہ)
وقال الحنفية عدا زفر، صح بيع درهمين ودينار بدرهم ودينارين، ويجعل كل جنس مقابلا بخلاف جنسه، فيكون في الحقيقة بيع درهمين بدينارين، وبيع درهم بدينار، وهما جنسان مختلفان، ولا يشترط التساوي فيهما، فيصح العقد
وکذا فی البحر:(6/215،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(7/10،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(7/422،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(10/58،فاروقیة)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/998،معارف القرآن)
وکذا فی بحوث قضایا فقھیة:(1/168،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 182

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔