سوال

اگر کسی آدمی نے اپنی زندگی میں اپنی قبر کی جگہ اپنے گھر میں یا کھیت وغیرہ میں مختص کر رکھی ہو (کہ اسی جگہ دفن کیا جائے)تو کیا مرنے کے بعد وہاں دفنانا ضروری ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

ایسی وصیت پر عمل کرنا ضروری نہیں ،بلکہ عام قبرستان میں دفن کرنا بہتر ہے۔

لما فی الھندیة:(6/95،رشیدیہ)
أوصى بأن يدفن في داره فوصيته باطلة إلا أن يوصي أن يجعل داره مقبرة للمسلمين، وفي الفتاوى والخلاصة ولو أوصى أن يدفن في بيته لا يصح ويدفن في مقابر المسلمين
وفی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(6/440،رشیدیہ)
ولو أوصى بأن يدفن في بيته لا يصح ويدفن في مقابر المسلمين
وکذافی البحر:(9/300،رشیدیہ)
وفي الظهيرية: ولو أوصى أن يكفن في ثوب كذا ويدفن في موضع كذا فالوصية في تعيين الكفن وموضع القبر باطلة
وکذا فی الشامیہ:(3/166،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/149،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4/236،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/428،بشری)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7484،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/321،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحاطوی علی مراقی الفلاح:(/612،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 58

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔