سوال

اگر کسی آدمی کانقصان ہوجائے اور کوئی اقرار بھی نہ کرے اور قرائن سے یہ بات معلوم ہورہی ہو کہ فلاں شخص نے نقصان کیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ شخص اس نقصان کا بھی منکر ہوتو کیا اس شخص پر نقصان کا ضمان ہوگا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

محض قرائن کی بنا ءپر کسی شخص پر نقصان کا ضمان لازم کرنا صحیح نہیں ہے ۔بلکہ مدعی اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لئے گواہ پیش کرے گا،اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکاتو جس کے خلاف دعوی ٰکیا گیا ہے،اسے کہا جائیگا کہ قسم اٹھا ،اگر وہ قسم اٹھا لے کہ میں نے نقصان نہیں کیا تو وہ بری ہوجائیگا ،ورنہ اسے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا۔

لما فی سنن ابن ماجہ:(127،قدیمی کتب خانہ )
“عن ابن عباس قال لو یعطی الناس بدعواھم لادعی الناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ. “
وفی کتاب المبسوط للشمس الدین:(17/35،دار المعرفة)
الدعوی الصحیحۃ لا توجب الاستحقاق المدعی للمدعی بنفسھا(فان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لو اعطی الناس بدعواھم لادعی قوم دماء قوم واموالھم لکن البینۃ المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(2/337،رحمانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/147،الطارق)
وکذافی الفتاوی التتار خانیہ:(3/5،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(4/13،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/210،رحمانیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(3/206،رحمانیہ)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(3/122،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی البحر الرائق:(7/345، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/10/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:101

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔