سوال

اگر کسی کو غسل کی حاجت یعنی احتلام وغیرہ ہو جائے اور وہ غسل کرتے وقت پہلے اس ناپاکی کو نہ دھوئے بلکہ سیدھا غسل کرے اور تین دفعہ اچھی طرح جسم پر پانی بہا لے تو کیا اس کا جسم پاک ہو جائے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح اگر چہ غسل تو ہو جائے گا ، لیکن ایسا کرنا خلاف سنت ہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/82،رشیدیہ)
و فرض الغسل غسل فیہ و انفہ و بدنہ لا دلکہ واد خال الماء داخل الجلدۃ للاقلف و سنۃ ان یغسل یدیہ و فرجہ و نجاسۃ لو کانت علی بدنہ
وفی الھندیة:(1/14،رشیدیہ)
و ھی ان یغسل یدیہ الی الرسغ ثلاثا ثم فرجہ و یزیل النجاسۃ ان کانت علی بدنہ ثم یتوضأ وضوئہ لصلاۃالا رجلیہ
وکذافی مجمع الانھر:(1/35،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(1/522،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/225،دار احیاء)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/312،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/100،حقانیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/105،الطارق)
وکذافی الھدایہ:(1/70،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(1/272،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2023/19/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:47

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔