سوال

اگر کوئی آدمی پانی میں ڈوب کر مر جائے تو اسے غسل دیا جائیگایا بغیر غسل کے اسے جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

میت کو پانی سے نکالتےہوئے غسل کی نیت سے اس کو حرکت دےدی جائےتو یہ کافی ہے ،مزید غسل دینے کی ضرورت نہیں، ورنہ مسنون طریقے سے غسل دیا جائے گااور اگر میت کی حالت خراب ہو تو اس پر صرف پانی بہادیں گے۔

لما فی الفتاویٰ العالمکیریہ:(1/158،رشیدیہ)
المیت اذاو جد فی الماء لابد من غسلہ لان الخطاب بالغسل توجہ علی بنی آدم ولم یوجد من بنی آدم الاان یحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل عند الاخراج ولو کان المیت متفسخا یعتذر مسحہ کفی صب الماء علیہ
وفی ردالمحتار علی الدر المختار:(3/108،دارالمعرفة)
لووجد المیت فی الماء فلابد من غسلہ ثلاثا)لانا امرنا بالغسل فیحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل ثلاثا
وکذا الفتاوی التاتارخانیہ:(1/12،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/49،داراحیاءتراث)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/24،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/304،رشیدیہ)
وکذافی کتاب التجنیس والمزید:(2/241،ادارة القرآن والعلوم)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(569،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:107

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔