سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مزاح میں کہے “پتری” تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

پتری” پنجابی زبان میں بیٹی کو کہتے ہیں اور بیوی کو بیٹی کہنا مکروہ ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/223،طارق)
” یکرہ ان یقول الرجل لزوجتہ انت امی ویا ابنتی ویا اختی ونحوہ. “
وفی البحرالرائق :(4/165،رشیدیہ)
بان قال انت امی لا یکون مظاہرا لکنہ مکروہ لقربہ من التشبیہ وقیاسا علی قولہ یااختی المنھی عنہ….فعلم انہ لا بد فی کونہ ظہارا من التصریح باداۃ التشبیہ شرعا و مثلہ قولہ یا بنتی و یااختی ونحوہ
وفی الدر المختار:(3/470،ایچ۔ایم۔سعید)
یکرہ قولہ انت امی ویا ابنتی ویا اختی ونحوہ.
وکذافی سنن ابی داود :(1/319،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/507،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(2/453،قدیمی)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(317،بشری)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(2/118،منار)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24-12-2021،1443-5-19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:79

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔