سوال

اگر کوئی شخص جمعرات کو مغرب کے بعد سورۂ کہف پڑھ لے تو کیا جمعہ کے دن پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی یا جمعہ کے دن پڑھنا ہی ضروری ہے؟ اور کیا جمعہ کے دن کسی بھی وقت (مغرب سے پہلے پہلے) پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

جمعرات کو مغرب کے بعد سے جمعہ کے دن مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت سورۂ کہف پڑھنے سے مسنون فضیلت حاصل ہوجائے گی۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ: (40-190، م: مکتبہ علومِ اسلامیہ)
ان اللیالی کلھا تابعۃ للایام المستقبلۃ، لا للایام الماضیۃ الا فی الحج فانھا فی حکم الایام الماضیۃ
وکذا فی التفسیر المنیر: (8-216، ط: امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذا فی سنن الدارمی: (2-546، ط: قدیمی)
وکذا فی تفسیر قرطبی: (10-346، ط: دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی المرقاۃ شرح المشکوۃ: (4-678، ط: المکتبہ التجاریہ)
وکذا فی احیاء علوم الدین: (1-187، ط: دار المعرفہ)
وکذا فی الترغیب و الترہیب: (1-297، ط: رشیدیہ)
وکذا فی کنز العمال: (1-287، ط: رحمانیہ)
وکذا فی المستدرک للحاکم: (2-477، ط: قدیمی)
وکذا فی فیض القدیر للمناوی: (6-258، ط: دار الکتب العلمیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:102

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔