الجواب حامداً ومصلیاً
زکوۃ ادا نہ ہوگی اور وکیل پر بھی کوئی ضمان نہیں ،بشرطیکہ اس نے حفاظت میں غفلت وکوتاہی نہ کی ہو ،البتہ وکیل پر لازم ہے کہ مؤکل کو زکوۃ کی رقم چوری ہونے کی اطلاع کرے۔
لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(3/225،رشیدیہ)
ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالاداء للفقراء (و فی الشامیہ )فلو ضاعت لاتسقط عنہ الزکوۃ
وفی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
لان الوکیل نائب المؤکل -المالک -فی الید و التصرف فکان الھلاک فی یدہ کالھلاک فی ید المالک المؤکل
وکذافی البحر الرائق:(2/369،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/238،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/263،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/186،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/38،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/395،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/2020/11/30
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:190