سوال

اگر کوئی شخص دوسرے کو زکوۃ ادا کرنے کا وکیل بنائے اور وکیل سے زکوۃ کی رقم چوری ہوجائے تو کیا مؤکل کی زکوۃ ادا ہوجائے گی یا دوبارہ ادا کرنا ہوگی؟ وکیل پر کوئی ضمان ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ ادا نہ ہوگی اور وکیل پر بھی کوئی ضمان نہیں ،بشرطیکہ اس نے حفاظت میں غفلت وکوتاہی نہ کی ہو ،البتہ وکیل پر لازم ہے کہ مؤکل کو زکوۃ کی رقم چوری ہونے کی اطلاع کرے۔

لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(3/225،رشیدیہ)
ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالاداء للفقراء (و فی الشامیہ )فلو ضاعت لاتسقط عنہ الزکوۃ
وفی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
لان الوکیل نائب المؤکل -المالک -فی الید و التصرف فکان الھلاک فی یدہ کالھلاک فی ید المالک المؤکل
وکذافی البحر الرائق:(2/369،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/238،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/263،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/186،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/38،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/395،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/2020/11/30
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:190

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔