الجواب حامداً ومصلیاً
یہ ڈر ہو کے نفل مکمل کرے گا تو جنازے میں شریک نہیں ہو سکے گا تو نفل نماز توڑ سکتا ہے بعد میں نفل نماز کی قضاء کرے گا۔
لما فی الدرالمختار: (2 /409 ،رشیدیہ )
أو کان فی النفل فجیء بجنازۃ وخاف فوتھا قطعہ لامکان قضائہ
وفی البحرالرائق: (2 /125، رشیدیہ)
اذا شرع فی النفل فحضرت جنازۃ خاف ان لم یقطعھا تفوتہ فانہ یقطعھا ویصلی علیھا
وکذافی النھرالفائق: (1 / 309، قدیمی)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح : (447،قدیمی )
وکذا فی حاشیة التبیین الحقائق: (1 /181 ،امدادیہ )
وکذا فی فتح القدیر : (1 / 488 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیةالطحطاوی علی الدر: (1 /298 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی النوازل: ( 86 ، حقانیہ)
وکذا فی الشامیہ : (2 /51 ،ایچ ایم سعید )
واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/3/12/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:104