سوال

اگر کوئی نابالغ بچہ آیت سجدہ تلاوت کرے ، تو سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نابالغ بچے سے آیت سجدہ سننے والا اگر مکلف(عاقل ، بالغ )ہے تواس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ۔

لما فی الھندیة:(1/132،رشیدیہ)
والاصل فی وجوب السجدۃ ان کل من کان من اھل وجوب الصلاۃ اما اداء او قضاء کان اھلا لوجوب سجدۃ التلاوۃ….حتی لوکان التالی کافرا او مجنونا او صبیا لم یلزمھم وکذا السامع…..ولوسمع منھم مسلم عاقل بالغ تجب علیہ لسماعہ
وفی البدائع:(1/439،رشیدیہ)
واما بیان من تجب علیہ فکل من کان اھلا لوجوب الصلاۃ علیہ امااداء او قضاء فھو من اھل وجوب السجدۃ علیہ ومن لا فلا…..حتی لاتجب علی الکافر والصبی والمجنون والحائض والنفساء قرؤا او سمعوا…..تجب علی السامع بتلاوۃ ھٰولآء الا المجنون
وکذافی البحر الرائق:(2/211،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(1/323،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/107،سعید)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(2/4،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:135

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔