الجواب باسم ملھم الصواب
رسوخ فی العلم “رسوخ مادہ رسخ سے ہے ،اور اسکا معنی ہے”گڑ جانا ،جم جانا “رسخ العلم فی قلبہ ،علم کا راسخ ہونا ،دل میں اتر جانا،شبہ باقی نہ رہنا ۔اور جس انسان میں یہ صفت ہو وہ راسخ فی العلم کہلائے گا ۔مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ”معا رف القرآن“میں فرماتے ہیں کہ ”راسخین فی العلم سے مراد اہل السنت والجماعت ہیں ،جو قرآن وسنت کی اسی تعبیر و تشریح کو صحیح سمجھتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،سلف صالحین ،اور اجماع امت سے منقول ہو ،اور قرآنی تعلیمات کا محور اور مرکز محکمات کو مانتے ہیں ،اورمشتبہات کے جو معانی ان کے فہم و ادراک سے باہر ہیں اپنی کوتاہ نظری اور قصور علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو خدا کے سپرد کرتے ہیں ،وہ اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور نہیں ہوتے ،بلکہ ہمیشہ حق تعالی سے استقامت اور مزید فضل وعنایت کے طلبگار رہتے ہیں ،ان کی طبیعتیں فتنہ پسند نہیں ہوتیں کہ متشابہات کے پیچھے لگی رہیں ،وہ محکمات اور متشابہات سب کو حق سمجھتے ہیں ۔
(معارف القرآن:2/21،22:ادارۃ المعارف )
وفی التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی رحمہ اللہ:( 3/146،علوم اسلامیہ)
ان اللہ مدح الراسخین فی العلم بانھم یقولون آمنا بہ ،وقال فی اول سورۃ البقرۃ {فاما الذین آمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم }فھولاءالراسخون لو کانوا عالمین بتاویل ذالک المتشابہ علی التفصیل لما کان لھم فی الایمان بہ مدح، ۔۔۔۔۔وانما الراسخون فی العلم ھم الذین علموا با لدلائل القطعیۃان اللہ تعالی عالم بالمعلومات التی لا نھایۃ لھا،وعلمواان القرآن کلام اللہ تعالی ،وعلمواانہ لایتکلم بالباطل والعبث ،فاذاسمعو اآیۃ ودلت الدلائل القطعیۃعلی انہ لا یجوز ان یکون ظاھرھا مراد اللہ تعالی ،بل مرادہ منہ غیرذالک الظاھر ،ثم فوضوا تعیین ذالک المراد الی علمہ ،وقطعوا بان ذالک المعنی ای شیئ کان فھو الحق والصواب،فھولاء الراسخون فی العلم باللہ حیث لم یزعزھم قطعھم بترک الظاھر ،ولا عدم علمھم بالمراد علی التعیین عن الایمان باللہ والجزم بصحۃ القرآن
(کذا فی تفسیر المظھری:(1/438،رشیدیہ
(کذا فی القاموس الوحید:(621،ادارہ اسلامیات
(کذا فی الجامع البیان فی تفسیر القرآن:(3/124،دارالمعرفہ
(کذا فی تفسیر البغوی:(1/280،دارالمعرفہ
(کذا فی تفسیر البحر المحیط:(2/200،201،دارالکتب العلمیہ
(کذا فی انوار البیان:(2/442،العلم
(کذا فی تفسیر ماجدی:(2/539،مجلس نشریات قرآن
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:196