الجواب حامداومصلیا
ایسے اوراق مقدسہ کو جلانا مناسب نہیں ،البتہ بہتر یہ ہے کہ ان کو”تحفظ اوراق مقدسہ “کے لیے لگائے گئے بکس وغیرہ میں رکھ دیا جائے ،اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر ان کو کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ مثلا قبرستان وغیرہ میں لحد کھود کر دفن کر دیا جائے ،اور اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو ان سے اسماء مقدسہ کو مٹاکر جلا سکتے ہیں، لیکن یہ حکم انتہائی مجبوری کے وقت کا ہے۔
لما فی الدر المختار:(9/696،رشیدیہ)
الکتب التی لا ینتفع بھا یمحیٰ عنھا اسم اللہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أو تدفن وھو أحسن کما فی الأنبیاء
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/210،رشیدیہ)
الکتب التی لا ینتفع بھا یمحیٰ عنھا اسم اللہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أ و تدفن وھو أحسن کما ھی فی الأنبیاء
قولہ (وھو أحسن) لأنہ یفعل بالأنبیاءوالأولیاء إذا ماتوا فکذا جمیع الکتب اذا بلیت وخرجت عن الإنتفاع بھا
وکذا فی التاتارخانیة:(18/68،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،ادارة القرآن)
وکذا فی السراجیة:(313،زمزم پبلشرز)
وکذا فی الھندیة:(5/323،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/22،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:69