الجواب حامداً ومصلیاً
مذکورہ بالا معاملے کا حاصل یہ ہے کہ ایک آدمی آڑھتی کوگندم قرض دیتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ بوقت ضرورت گندم یا اس دن کی قیمت وصول کر لوں گا،اگر گندم وصول کر لے یا اس کے بدلے میں پیسے وصول کر لے تو یہ جائز ہے۔
لما فی التاتارخانیہ:(9/385،فاروقیہ)
کل شیئ یکال او یوذن نحوالحنطۃ والشعیر والسمسم والتمروالزبیب جازاستقراضہ،……ذکرفی الاصل:اذااستقرض الدقیق وزنا لایردہ وزنا،ولکن یصطلحان علی القیمۃ،کما لو استقرض الحنطۃوزنا،وعن ابی یوسف فی روایۃ:یجوز استقراضہ وزنا استحسانا اذا تعارف الناس ذالک،وعلیہ الفتوی
وفی الفقہ الحنفی:(4/217،218،الطارق)
لواستقرض الطعام ببلد الطعام فیہ رخیص،……وعند الصاحبین علیہ قیمتہ.فقداتفقاعلی وجوب ردالقیمۃ دون المثل لانہ لما بطل وصف الثمنیۃ بالکساد تعذرردعینھا کما قبضھا فیجب ردقیمتھا.
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3789،3790،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(33/124،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویرالابصارعلی ردالمحتار:(7/409،410،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(7/392،393،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:36