سوال

ایک آدمی امریکہ رہتا ہے، اس نے پاکستان میں موجود ایک شخص کو ایک ہزار ڈالر ادھار دیے ہیں، جو پاکستانی کرنسی کے اعتبار سے ڈیڑھ لاکھ روپے بنتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ جب پاکستانی ادھار واپس کرے گا تو ڈالر میں واپس کرے گا یا روپیہ میں؟ ہوسکتا ہے کہ جب ادھار کی واپسی کا ٹائم آئے تو ڈالر کی قیمت بڑھ چکی ہو۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں قرض کی ادائیگی ڈالر کی صورت میں کرنی چاہئے، اگرچہ ادائیگی کے وقت اس کی قیمت بڑھ چکی ہو۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ:(33/124،ط: علوم اسلامیہ)
 و انہ لو استقرض شیئا من المکیلات او الموزونات او المسکوکات من الذھب او الفضۃ، فرخصت اسعارہ او غلت فعلیہ مثلھا، و لاعبرۃ برخصھا و غلائھا
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/500،ط: قدیمی)
سئل) فی رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراھم و تصرف بھا ثم غلا سعرھا فھل علیہ رد مثلھا؟
الجواب):نعم، ولاینظر الی غلاء الدراھم و رخصھا
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/504،ط: قدیمی)
وکذافی الشامیہ:(3/605،ط: ایچ ایم سعید )
وکذافی البحر الرائق:(6/343،ط: رشیدیہ)
وکذافی مجمع الضمانات:(460،ط: حقانیہ)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب :(2/75،ط: قدیمی)
وکذافی الھدایہ:(3/193،ط: رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/319،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافیہ ایضاً:(10/340،ط: داراحیاء التراث العربی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1442/2021/04/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:147

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔