الجواب باسم ملھم الصواب
صورتِ مسؤلہ میں قرض کی ادائیگی ڈالر کی صورت میں کرنی چاہئے، اگرچہ ادائیگی کے وقت اس کی قیمت بڑھ چکی ہو۔
لما فی الموسوعہ الفقھیہ:(33/124،ط: علوم اسلامیہ)
و انہ لو استقرض شیئا من المکیلات او الموزونات او المسکوکات من الذھب او الفضۃ، فرخصت اسعارہ او غلت فعلیہ مثلھا، و لاعبرۃ برخصھا و غلائھا
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/500،ط: قدیمی)
سئل) فی رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراھم و تصرف بھا ثم غلا سعرھا فھل علیہ رد مثلھا؟
الجواب):نعم، ولاینظر الی غلاء الدراھم و رخصھا
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/504،ط: قدیمی)
وکذافی الشامیہ:(3/605،ط: ایچ ایم سعید )
وکذافی البحر الرائق:(6/343،ط: رشیدیہ)
وکذافی مجمع الضمانات:(460،ط: حقانیہ)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب :(2/75،ط: قدیمی)
وکذافی الھدایہ:(3/193،ط: رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/319،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافیہ ایضاً:(10/340،ط: داراحیاء التراث العربی)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1442/2021/04/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:147