الجواب حامداً ومصلیاً
چونکہ صورت مسئولہ میں ملازم ، محض مخلوط رقم کی منتقلی کرنے کی وجہ سے براہ راست سودی معاملہ میں ملوث نہیں ، اس لیے اس ملازمت کی گنجائش ہے ۔البتہ تعاون علی الربا کا شبہ بہر حال موجود ہے، لہٰذا کوئی دوسرا حلال کاروبار ملتے ہی اس ملازمت سے چھٹکارا پالینا چاہیے ۔
لما فی تکملة فتح الملھم:(1/619،دارالعلوم)
واما اذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا……جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال
وفی مشکوة المصابیح:(1/250،رحمانیہ)
عن جابر قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء رواہ مسلم
وفیہ ایضاً:(6/51،التجاریہ)
قال الطیبی…..فینبغی ان یتحرز عن صریح الربا فیثبت بوجہ من وجوہ المبالغۃ لقولہ تعالی (واحل اللہ البیع وحرم الربا)لکن مع وجل وخوف شدید عسی اللہ ان یتجاوز عنہ
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/51،التجاریہ)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/645،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة تحتہ:(9/646،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(4/197،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:137