سوال

ایک آدمی شہرکی ایسی مسجدمیں اعتکاف بیٹھاجس میں جمعہ کی نمازنہیں ہوتی،بلکہ قریب جامع مسجدمیں ہوتی ہے،اب نمازِجمعہ کےلیےجامع مسجدمیں جانااس شخص کےلیےضروری ہےیانہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!مقیم معتکف کےلیےجامع مسجدمیں،نمازِجمعہ کےلیےجاناضروری ہے۔

لما فی الموسوعةالفقہیة:(5/221،اسلامیہ)
من وجبت علیہ الجمعۃوکان اعتکافہ متتابعاواعتکف فی مسجدلاتقام فیہ الجمعۃفھوآثم،ویجب علیہ الخروج لصلاۃالجمعۃ،لأنھافرض.فاذاخرج للجمعۃفقدذھب الحنفیۃوالحنابلۃإلی أن خروجہ للجمعۃلایفسداعتکافہ،لأنہ خروج لمالابدمنہ
وفی المبسوط للسرخسی:(3/117،دارالمعرفة)
قال ولاینبغی للمعتکف أن یخرج من المسجد إلالجمعۃأوغائط أوبول…وأمااذاخرج للجمعۃفلایفسداعتکافہ عندنا
وکذافی البدائع:(2/282،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/527،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/247،المیزان)
وکذافی الھندیة:(1/144،رشیدیہ)
وفیہ ایضاً:(1/212،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/174،رشیدیہ)
وفیہ ایضاً:(1/221،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/241،حرمین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:65

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔