سوال

ایک آدمی عمرہ کاطواف کررہاتھااوراس کےجسم کے کسی حصےسےخون نکل رہاتھااورطواف کے بعد اس کو پتا چلاتواب کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص کووضوکرکےدوبارہ طواف کرنا چاہیے،اس طرح اس پرکچھ لازم نہیں ہوگا،لیکن اگر دوبارہ طواف نہیں کیااورگھرلوٹ گیاتودم لازم ہے۔

لما فی الشامیہ: (3 /663 ،رشیدیہ)
ولوطاف للعمرۃکلہ أوأکثرہ أوأقلہ ولوشوطاجنباأوحائضاأونفساءأومحدثافعلیہ شاۃ، لافرق فیہ بین الکثیر والقلیل والجنب والمحدث،لأنہ لامدخل فی طواف العمرۃللبدنۃولاللصدقۃ۔۔۔۔۔وأن أعادہ سقط عنہ الدم
وفی حاشیہ البحرالرائق: (3 /39 ،رشیدیہ)
ولوطاف للعمرۃکلہ أوأکثرہ أوأقلہ ولوشوطاجنباأوحائضاأونفساءأومحدثافعلیہ شاۃ۔۔۔۔۔وأن أعادہ سقط عنہ الدم
وکذا فی البنایہ: (4 /289،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 51 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /609 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/296،المیزان)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/504،طارق)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/523،رشیدیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/60،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/12/2022/24/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 151

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔