سوال

ایک آدمی فون پر دوسرے آدمی کو جگہ کا پتہ بتا رہا تھا لیکن دوسرے آدمی کو بار بار کہنے کے باوجود سمجھ نہیں آرہی تھی اور وہ مسجد کے پاس کھڑا تھا ،اور وہ بار بار کہہ رہاتھا کہ یار میں اس مسجد کے پاس ہوں ۔دوسرے آدمی نے اسے غصے میں کہا “یار مسجد کو دفع کرو جہاں میں کہہ رہا ہوں وہاں آؤ”،اس کے پاس ایک اور آدمی کھڑا تھا اس کہا یار یہ جملہ آپ نے غلط کہا ہے ۔ اس نے کہا یار مجھ سے غلطی سے یہ جملہ نکلا ہے ، قصدا نہیں کہا ،میں تجھ سے بھی معافی مانگتا ہوں اور تیرے سامنے اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اس نے اس آدمی سے جو پاس کھڑا تھا معافی مانگی اور اللہ سے استغفار کیا اور وہ اس جملہ پر بہت شرمندہ ہے ۔ اس واقعے کو تقریبا 2 سال گزر چکے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ شخص شادی شدہ ہے ۔اب اس کے لیےشریعت کا کیا حکم ہے،اس سے نکاح تو نہیں ٹوٹا اگر ٹوٹ گیا ہے تو اب وہ کیا کرے ؟کسی کو بتائے گا تو بہت شرمساری ہو گی۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

نکاح تو نہیں ٹوٹا، البتہ اس شخص نے یہ جملہ بول کر یقینا بہت بڑی غلطی کی ہے ،کسی مسلمان کو اتنا لاپرواہ اور غافل نہیں ہونا چاہیے، اب اس پر مزید جتنا ہو سکے توبہ و استغفار کرے۔

لما فی الشامیۃ:(6/345،دار المعرفۃ)
لا يخرج الرجل من الإيمان إلا جحود ما أدخله فيه ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها، وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بالشك مع أن الإسلام يعلو، وينبغي للعالم إذا رفع إليه هذا أن لا يبادر بتكفير أهل الإسلام۔۔۔
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/99،الطارق)
والاصل فی ذلک انہ لایفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن ،او کان فی کفرہ خلاف ولو کان ذلک روایۃ ضعیفۃ لغیر اھل مذھبنا ، وھذا یدل علی اشتراط کون ما یوجب الکفر مجمعا علیہ⸳
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(2/261،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی التاترخانیۃ:(7/281و284و291،فاروقیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(3/251،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری:(1/2،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(5/210، رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1440
29/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:115

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔