سوال

ایک آدمی نے استنجاء کرنا تھا لیکن اس کو وضو کے وقت یاد نہ رہا جب اس نے وضوء کر لیا بعد میں یاد آیا ،تو اب وہ استنجاء کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرے گا یا وہی وضوکافی ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہیں بیابان میں یا کھیتوں میں بول و براز کرلیتا ہے اور صرف ڈھیلے سے استنجاء کر لیتا ہے ،پھر بعد میں جب پانی مہیا ہوتا ہےتو پانی سے بھی استنجاء کر لیتا ہے ،اس طرح پانی سے استنجاء کرنے سے پہلے اگر نماز کے لیے وضوکر لیا اور پھر پانی سے صرف استنجاء کر لیا تو اس سے وضو ختم نہ ہو گا ،یہ ایسے ہے گویا اس نے اپنے جسم پر لگی گندگی کو دور کیا ہے ،ہاں اگر وضوکے بعد بول و براز کر کے استنجاء کیا تو وضو ختم ہو جائے گا ۔

لما فی الدر المختار علی رد المحتار :(1/615،رشیدیہ)
استنجی المتوضی ،ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض ،والا فلا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/437،رشیدیہ)
ینقض الوضوء اثنا عشر شیئا:ما خرج من السبیلین الا ریح القبل فی الاصح ،وولادۃ من غیر رؤیۃ دم،ونجاسۃ سائلۃ من غیر السبیلین کدم وقیح وقیئ طعام او ماء او علق (دم متجمد من المعدۃ )،او مرۃ (صفراء )اذا ملأ الفم،……وینقضہ دم غلب علی البزاق او ساواہ، ونوم مضطجعا،او متکئا او مستندا الی شیئ لو ازیل لسقط
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/50،72،الحقانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/215،240،فاروقیہ)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(1/307،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار :(1/308،615،رشیدیہ)
وکذا فی احسن الفتاوی:(2/108،ایچ ایم سعید)
وکذا فیہ:(10/192،ایچ ایم سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2019/2/19
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:151

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔