سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی اور دینے کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری بھی کی جس کے نتیجے میں بچہ ہوگیا اب آیا اس بچہ کا نسب اس آدمی سے شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بچہ کا نسب اس آدمی سے ثابت نہیں ہوگا۔

لما فی الھدایة: (2 /273 ،بشریٰ )
ثم الشبھۃنوعان:شبھۃفی الفعل،وتسمی شبھۃاشتباہ،وشبھۃفی المحل،وتسمی شبھۃ حکمیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والنسب یثبتفی الثانیۃ اذاادعی الولد،ولایثبت فی الاولی وان ادعاہ؛لان الفعل تمحض زنا فی الاولی۔ فشبھۃ الفعل فی ثمانیۃ مواضع:جاریۃابیہ وامہ وزوجتہ،والمطلقۃ ثلاثا وھی فی العدۃ،وبائنا بالطلاق علی مال وھی فی العدۃ
وفی التاتارخانیة: (6 /360 ،فاروقیة )
ولوطلق امراتہ ثلاثا او طلقھا بمال او خالعھا ثم وطأھا فی العدۃ وقال” ظننت انھا تحل لی“لا حد علیہ واذا لم یجب الحد فی ھذہ المسائل یجب العقرولا یثبت نسب الولد
وکذافی المحیط البرھانی: (6 /436 ،دار احیاء ) وکذافی الشامیة: (6 /33 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (2 /148 ،رشیدیة ) وکذافی بدائع الصنائع: ( 5/491 ،رشیدیة )
وکذافی البحر الرائق: (5 /23 ،رشیدیة ) وکذافی تبیین الحقائق: (3 /175 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (5 /237 ،رشیدیة ) وکذا فی سنن ابی داود: (1 /329 ،رحمانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:64

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔