سوال

ایک آدمی نے مسجد بنانے کی نیت سےزمین وقف کی،چند سال بعد واقف کا کہنا ہے کہ مسجد اور مدرسہ دونوں بناؤ،جبکہ تعمیر ابھی شروع نہیں ہوئی،تو واقف کی دوسری بات (دونوں بنانے کی) کرنا صحیح ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

مسجد کے لیےوقف جگہ میں جب تک لوگوں کو نماز کی اجازت دیکر اذان و اقامت کے ساتھ نماز نہ پڑھ لی جائےوہ شرعی مسجد نہیں بنتی،لہذا مالک کی ملک برقرار ہے اور اس کا مسجد و مدرسہ بنانے کے لیے کہنا صحیح ہے۔

لما فی الشامیة:(6/547،رشیدیہ)
وأنه لو قال وقفته مسجدا، ولم يأذن بالصلاة فيه ولم يصل فيه أحد أنه لا يصير مسجدا بلا حكم
وفی البحر:(5/416،رشیدیہ)
(ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/593،المنار)
وکذافی المبسوط:(12/34،دارالمعرفہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(194،قدیمی)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(3/290،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 144

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔