سوال

ایک آدمی نے کسی کو پیسے دیے کہ ان کو فقراء پر صدقہ کر دو۔وکیل پر انہی پیسوں کا صدقہ کرنا ضروری ہے یا دوسرے پیسے بھی صدقہ کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

چونکہ عرف میں ایسی رقم تبدیل کرنے کی اجازت ہوتی ہے،اس لیے ایسا کرنے کی گنجائش ہے،تاہم صراحتاً اجازت لے لینا زیادہ بہتر ہے۔

لما فی تبیین الحقائق:(4/90،امدادیة ملتان)
الفلوس الرائجة أثمان والثمن لا يتعين بالتعيين ولهذا إذا قابل الفلوس بخلاف جنسها لا يتعين كالدراهم والدنانير حتى كان له أن يعطي غيرها
وفی البحر الرائق:(6/219، رشیدیة کوئٹه)
الفلوس الرائجة أثمان، وهو لا يتعين، ولذا لا تتعين الفلوس إذا قوبلت بخلاف جنسها كالنقدين
وکذافی البنایة:(7/362،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی فتح القدیر:(7/21، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی العنایة علی فتح القدیر:(7/21، رشیدیة کوئٹه)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:128

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔