سوال

ایک آدمی کہتا ہے کہ احادیث کا کوئی ثبوت نہیں ہے،کچھ لوگوں نے مل بیٹھ کر مشورہ سے حدیثیں بنا لیں،ہر ایک نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سنی ہے ۔اس آدمی کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ جنت میں صرف روحیں ہوں گی انسانی جسم نہیں ہوں گے اور کہتا ہے کہ بیوی کے ساتھ ہمبستری کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں ہے اور بغیر وضو کے نماز کو جائز سمجھتا ہے ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسے شخص کے ساتھ میل جول،شادی غمی میں ان کو بلانا یا ان کی شادی غمی میں شریک ہونا ،اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے ؟اور کیا یہ شخص مسلمان کہلانے کے قابل ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کے مذکورہ عقائد واضح طور پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں،لہذا ایسے ملحدانہ و کافرانہ عقائد رکھنے والا شخص خارج از اسلام اور ملحد و زندیق ہے ۔یہ شخص جب تک اپنے ان کفریہ عقائد سے توبہ کر کے تجدید ایمان نہ کر لے اس وقت تک اس سے کسی قسم کا میل جول رکھنا اور اس کی خوشی و غمی میں شریک ہونا درست نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء،65)
“فلا و ربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم.”
وفی جامع الترمذی :(1/90،رحمانیہ)
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا تقبل صلاۃ بغیر طھور
وفی الفتاوی الھندیة:(2/268،رشیدیة)
ولو صلى بغير وضوء متعمدا يكفر قال الصدر الشهيد – رحمه الله تعالى – وبه نأخذ
وفی الموسوعة الفقھیة:(35/14،علوم اسلامیة)
الكفر شرعا: هو إنكار ما علم ضرورة أنه من دين محمد صلى الله عليه وسلم
وفی الدر المختار:(6/344،رشیدیة)
الكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه – صلى الله عليه وسلم – في شيء مما جاء به من الدين ضرورة
وکذافی التفسیر المنیر:(3/145،امیر حمزہ) وکذافی مجمع الانھر:(2/506،المنار)
وکذا فی سنن ابی داؤد:( 2/287،رحمانیة) وکذا فی البحر الرائق:(5/202،رشیدیة)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(9/602،التجاریة) وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة:(7/300،322،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:174

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔